791545-z-1492066628-311-640x480

مرد و زن مختلف کیوں اور کیسے ہیں؟

سائنسدانوں پر روایتی سوچ اور جانبدار تحقیق کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ جس کی بدولت مرد و زن کے حوالے سے روایتی سوچ اور مروجہ خیالات کو تقویت دی جاتی ہے۔ فوٹو: فائل

اگر مرد و عورت بیک وقت لوگوں سے بھرے ایک کمرے میں داخل ہوں اور پانچ منٹ بعد دونوں سے سوال کیا جائے کہ انہوں نے وہاں کیا دیکھا تو ’محترمہ‘ باآسانی یہ بتادیں گی کہ کمرے میں موجود کس عورت نے کون سا کپڑا زیب تن کیا ہوا ہے، فلاں کی قمیض کا کیا رنگ ہے، پرنٹ میں ہے یا کڑھائی میں، کس کس نے کیسے کیسے زیورات پہن رکھے ہیں، کس کے کان خالی ہیں اور کس کی کلائیوں میں چوڑی نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف ’محترم‘ صرف میز پر موجود کھانے کی اشیاء معہ اقسام، اپنی اُن سے دوری اور کمرے میں موجود لوگوں کی تعداد پر گمان کے علاوہ شاید ہی کوئی اضافی جواب دے سکیں۔

ایک ماں کو شیر خوار کے رونے پر یہ اندازہ لگانے میں دقت نہیں ہوتی کہ آیا بچے کو بھوک لگی ہے، کہیں درد اُٹھا ہے یا کوئی دوسری فطری مجبوری ہے۔ اِس کے برعکس باپ کو بچے کا رونا فقط رونا ہی لگتا ہے اور وہ رونے کے انداز سے اُس کے پیچھے کارفرما وجہ و طلب جاننے سے قاصر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، اگر کسی مرد سے عورتوں کے متعلق انہونی کا سوال ہو تو وہ عورتوں کی محفل میں خاموشی کو بطور مثال پیش کرے گا۔

چنانچہ ذہن میں چند سوالات جنم لیتے ہیں کہ مرد و زن کے اِن رویوں کا فرق معاشرتی اثرات کی بدولت ہے؟ روایتی پرورش کے تابع ہے؟ یا مرد و عورت قدرتی طور پر ہی مختلف ہیں؟

اِس ضمن میں راقم نے سائنس سے رجوع کرتے ہوئے یہ کھوج لگانے کی کوشش کی ہے کہ تفاوتِ زنانہ و مردانہ سائنسدانوں کی نظر میں کیا ہے؟ جن میں سے کچھ نکات مندرجہ ذیل ہیں،

جسمانی ساخت اور حیاتیاتی موازنہ

مردوں کے پٹھوں کی کمیت و مقدار (muscle mass) نہ صرف کُلی طور پر زیادہ ہوتی ہے بلکہ پورے جسم کی بہ نسبت بھی عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اِسی طرح مردانہ ہڈیاں، بافتیں اور ہڈیوں کے بندھن یعنی لگامنٹ (ligaments) گھنے اور مضبوط ہوتے ہیں۔ مردانہ دل وزن میں اور پھیپھڑا حجم میں بڑا ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ خون میں سرخ خلیوں کی تعداد اور اُن میں ہیموگلوبن کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد دراز قد، جسمانی طور پر مضبوط اور طاقتور ہوتا ہے۔

اِس کے برعکس ایک خاتون کے خون میں سفید خلیوں کی تعداد مرد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور عموماً اِس کا بلڈ پریشر نارمل حالت میں مرد سے نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ خواتین میں جسمانی دفاعی نظام کے محافظ (antibodies) پیدا کرنے کی شرح مردوں کی نسبت بہتر ہے۔ مرد میں بہرہ پن اور خاتون میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ خواتین، مردوں کے مقابلے میں زیادہ جیتی ہیں یعنی اوسطاً یہ مردوں کی نسبت طویل عمر پاتی ہیں۔

بیماریوں کے خلاف مدافعت

عورتوں میں دل کا عارضہ لاحق ہونے کا امکان کم ہوتا ہے کیونکہ اِن میں اینٹی باڈیز پیدا کرنے کی شرح بہتر ہوتی ہے تو مردوں کے مقابلے میں اِن میں انفیکشن کے خلاف لڑنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ خواتین میں کلر بلائنڈ (colour blindness) اور ہیموفیلیا میں مبتلا ہونے کا امکان بھی نسبتاً کم ہوتا ہے کیونکہ اِن کے کروموسوم مختلف ہوتے ہیں۔

 

دماغی تقابل

’نر‘ اور ’مادہ‘ دماغ سے متعلق تحقیق اور اِس کے نتیجے میں مرد و عورت کی صلاحیتوں کا مطالعہ و تشریح کافی عرصے سے جاری ہے۔ اِس حوالے سے روایتی سوچ اور تعصب کا عنصر بھی زیرِ بحث آتا ہے۔

یہاں اِس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ دنیا میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو مرد و عورت کی برابری کے علمبردار اور اِس بات کے داعی ہیں کہ دونوں دماغوں میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ معاشرہ، ماحول اور تربیت کسی بھی دماغ کو ’نر‘ اور ’مادہ‘ خصوصیات اپنانے میں اہم اور واضح کردار ادا کرتی ہے۔ وہ سائنسدانوں پر روایتی سوچ اور جانبدار تحقیق کرنے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ جس کی بدولت مرد و زن کے حوالے سے روایتی سوچ اور مروجہ خیالات کو تقویت دی جاتی ہے۔ اُن کے نزدیک ’نر‘ اور ’مادہ‘ دماغ میں کوئی فرق نہیں۔

بہرحال بے شمار سائنسی تحقیقات ’نر‘ اور ’مادہ‘ دماغ میں موجود فرق و خصوصیات کی طرف اشارہ کرتیں ہیں۔ جن کا خلاصہ یہاں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مردانہ دماغ کا وزن و حجم بڑا ہوتا ہے مگر اِس کا تعلق ذہانت کی کمی و زیادتی سے ابھی تک ثابت نہیں۔ نر و مادہ دماغ مختلف نیورو کیمیکلز کو مختلف مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ مرد زیادہ جارحانہ اور قوتِ محرکہ کے تابع ہوتے ہیں جبکہ خواتین صلح جُو ہوتی ہیں اور مار دھاڑ سے اجتناب برتتی ہیں۔

انسانی دماغ کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر حصے کا استعمال مختلف کاموں، صلاحیتوں اور رویوں میں مددگار ثابت ہوتا ہے، نیز یہ مختلف حصے آپس میں الیکٹرک سرکٹ کی مانند منسلک ہوتے ہیں۔ کسی ایک حصے کی دوسرے کے ساتھ کنکشن کی تعداد میں کمی یا زیادتی بھی مختلف صلاحیتوں اور رویوں میں تفریق کو جنم دیتی ہے۔

مردانہ دماغ کسی بھی سرگرمی کے لئے سرمئی مادے (grey matter) کا اور زنانہ دماغ سفید مادے (white matterr) کا استعمال زیادہ کرتا ہے۔ مزید برآں، عورتوں میں دماغی حصوں کو جوڑنے والے کنکشن کی تعداد نہ صرف زیادہ ہوتی ہے بلکہ اِن کی نوعیت میں بھی فرق ہوتا ہے۔

اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد کا جھکاؤ منطق، حقائق اور ڈیٹا کی طرف جبکہ خواتین کا جذبات، احساسات اور تعلق کی جانب ہوتا ہے۔ دوسری طرف مرد یکسو ہوتے ہیں جبکہ خواتین بیک وقت مختلف کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یعنی multi tasking میں بہتر نتائج دیتی ہیں۔ مطلب یہ کہ سائنس کے مطابق بیک وقت بولنا اور سننا اُن کی قدرتی صلاحیت ہے جہاں تک عام مردوں کا پہنچ پانا مشکل ہے۔

نتیجتاً عورت ایک طرف دیکھتے ہوئے زیادہ چیزوں کا مشاہدہ کرسکتی ہے جبکہ مرد مخصوص شے کو دیکھنے کا عادی ہوتا ہے۔ اب سمجھ میں آیا کہ خواتین ایک ہی نظر میں کپڑے کا رنگ، میٹیریل، زیورات کی اقسام و ہئیت، جوتے کا برانڈ اور موزے کی میچنگ تک کا اندازہ کیسے لگا لیتی ہیں؟

’نر‘ دماغ حرکات و سکنات اور ’مادہ‘ دماغ رنگوں میں تفریق کے بارے میں حساس ہوتا ہے۔ اِسی لئے مرد حضرات مختلف رنگوں کی پہچان و تمیز میں مار کھاتے ہیں اور عورتوں کو میچنگ اور کنٹراسٹ کا اتنا لحاظ ہوتا ہے۔

عورت آواز کی پانچ قسم کی ٹونز میں تمیز کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ مرد تین طرح کی۔ عورت کی زبان میں حسِ لذت اور سونگھنے کی حس بہتر ہے اور خاتون کا دماغ ہمدردانہ جبکہ مرد کا انتظامی ہوتا ہے۔

انسانوں میں دماغ کے حوالے سے تنوع پایا جاتا ہے چنانچہ اوپر بیان کردہ بحث و نتائج کا اطلاق اوسط پر ہے۔ یعنی ایک عورت کا دماغ مرد کی خصوصیات کے قریب تر ہوسکتا ہے اور اِسی طرح ایک مرد کی صلاحیت و رویہ زنانہ دماغ کی ملکیت ظاہر کرسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*