1014902-pcb-1512276725-264-640x480

سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا، سیٹھی نے جن اربوں روپے کا دعوی کیا وہ کہاں گئے؟ ذکا اشرف۔ فوٹو : فائل کراچی / لاہور: بھارت سے ہرجانہ وصولی کی کمزور مہم پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ ’’بگ تھری‘‘ کی حمایت کے بدلے بھارتی بورڈ نے 2015 سے 2023 تک 6 باہمی سیریز کھیلنے کے معاہدے پر دستخط کیے،ان میں سے 4 کی میزبانی پاکستان کو دی گئی تھی، اس وقت چیئرمین پی سی بی کے طور پر کام کرنے والے نجم سیٹھی 2014میں ایم او یو سائن کرنے کے بعد وطن واپس آئے تو پریس کانفرنس میں 9ارب روپے کے قریب کمائی حاصل ہونے کا دعویٰ کیا،مگر بی سی سی آئی حکومتی اجازت کا جواز پیش کرتے ہوئے کھیلنے سے انکار کرتا، اب تک 2سیریز کا وقت نکل چکا۔ پی سی بی کا موقف ہے کہ اسے7کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا لہذا بھارتی بورڈ ہرجانہ ادا کرے، دوسری جانب معاہدہ بی سی سی آئی میں سری نواسن کی صدارت کے دوران ہوا تھا،سیاسی رہنما انوراگ ٹھاکر سیکریٹری بننے کے بعد سے اسے ردی کاغذ کا ٹکڑا قرار دیتے چلے آرہے ہیں جب کہ بھارت کا بدستور یہی مؤقف ہے کہ حکومت کھیلنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ پی سی بی نے ہرجانہ وصولی کیلیے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے رواں سال کے آغاز میں ایک لیگل نوٹس رواں سال کے آغاز میں بی سی سی آئی کو بھجوایا تھا جس پر بھارتی ٹس سے مس نہیں ہوئے، اب پی سی بی نے قانونی چارہ جوئی کیلیے آئی سی سی کے پاس نوٹس جمع کراتے ہوئے کیس تنازعات کمیٹی میں پیش کرنے کی درخواست کردی،رواں ہفتے اگلی کارروائی کا انتظار کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نے ہرجانہ کیس کے سلسلے میں مشاورت کیلیے آئی سی سی کے سابق چیف احسان مانی سے رابطہ کیا تھا لیکن انھوں نے انکار کردیا جب کہ ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت میں انھوں نے پی سی بی کے طریقہ کار کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہاکہ معاملہ باہمی افہام وتفہیم سے حل کرلینا چاہیے تھا،میرا نہیں خیال کہ بھارت کیخلاف کیس دائر کرنے کا کوئی فائدہ ہوگا۔ احسان مانی نے کہا کہ آئی سی سی کی تاریخ میں پہلی بار ایک ممبر ملک دوسرے کیخلاف نبرد آزما ہے،اسی وجہ سے پی سی بی کو آئی سی سی سے کوئی سپورٹ نہیں ملے گی۔ سابق چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے بھی ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت میں کہا کہ بی سی سی آئی کے ساتھ معاہدے میں اسپورٹس کی عالمی ثالثی عدالت میں جانے کی شق ہی شامل نہیں کی گئی، بورڈ کو شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ سابق آئی سی سی چیف نے کہا کہ ایک غلط بیانی پر پردہ ڈالنے کیلیے دوسری کی جاتی ہے،صرف قوم کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے،نجم سیٹھی نے جن اربوں روپے کا دعویٰ کیا تھا وہ کہاں گئے، ’’بگ تھری‘‘ کی حمایت کے بدلے بی سی سی آئی نے معاہدے کی پیشکش مجھے بھی کی تھی لیکن انھوں نے اس میں عالمی ثالثی عدالت میں جانے کی شق شامل نہیں کی، میں نے ملکی مفاد کے خلاف فیصلہ کرنے سے انکار کردیا، بھارتی بورڈ بڑی معنی خیز باتیں کرتا رہا لیکن میرا موقف تبدیل نہیں ہوا۔

بورڈ آنکھیں بند اور کان میں روئی ڈال کر بیٹھا رہا تو پاکستانی بولرز مشکوک ایکشن کے قانون کی زد میں آتے رہیں گے۔ فوٹو: فائل

کراچی: سعید اجمل کو اس بات کا بہت دکھ ہے کہ بورڈ کا کوئی بھی سرکردہ افسر ان کے کرکٹ سے الوداع کہتے وقت موجود نہ تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں 447 وکٹیں حاصل کرنے والے سعید اجمل نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ میں اپنے کریئر سے مطمئن اور مجھے خوشی ہے کہ میری کارکردگی ملک کے کام آئی، میں نے بہت کم عرصے میں جو اعزازات حاصل کیے وہ کوئی دوسرا کرکٹر 20 سال کھیل کر حاصل کرتا، البتہ مجھے اس بات پر ہمیشہ دکھ رہے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کوئی بھی اعلیٰ افسر مجھے الوداع کہنے کیلیے موجود نہ تھا، چیئرمین نجم سیٹھی نے بھی جو پیغام بھیجا وہ صرف ٹویٹ پر مبنی تھا،کسی نے فون کرنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی، بورڈ ہرکسی کے ساتھ یہی سلوک روا رکھتا ہے تو میں کیا شکوہ کروں؟

سعید اجمل نے سابقہ موقف پھر دہراتے ہوئے کہا کہ مشکوک بولنگ ایکشن سے متعلق آئی سی سی کا قانون صرف پاکستان کیلیے ہے، میں بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور بھارت کے کئی ایسے بولرز کے نام انگلیوں پرگنوا سکتا ہوں جو 15 ڈگری سے زیادہ بولنگ کرتے ہیں لیکن کونسل نے کبھی انھیں رپورٹ نہیں کیا۔

اسپنر نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے بورڈ کو آئی سی سی کی ضرورت ہے، اسی لیے وہ خاموش بیٹھا ہے لیکن اگر وہ اسی طرح آنکھیں بند اور کان میں روئی ڈال کر بیٹھا رہا تو پاکستانی بولرز مشکوک بولنگ ایکشن کے قانون کی زد میں آتے رہیں گے، یہ قانون جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کے مترادف ہے، انھوں نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے وہ اپنے بولنگ ایکشن کے سبب سب کی نظروں میں آ گئے تھے، مائیکل وان اور اسٹورٹ براڈ کی ٹویٹس نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔

سعید اجمل نے کہا کہ وان اور براڈ کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ کرکٹر ہوتے ہوئے ایک کھلاڑی کیخلاف اس طرح کی طنزیہ بات کہتے، میں چاہتا تو ان ٹویٹس کا جواب دے سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے کیریئر میں ہر بڑے کرکٹر کو آؤٹ کیا، ان میں انگلینڈ کے کیون پیٹرسن ایسے بیٹسمین تھے جو میرے ہاتھوں آؤٹ ہونے پر خود پر غصہ ہوتے تھے، اگر میں برائن لارا کیخلاف کھیلتا تو وہ میری سب سے یادگار وکٹ ہوتی کیونکہ لارا میرے پسندیدہ ترین بیٹسمین اوراسپن بولنگ کو بہت اچھا کھیلتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*