754468-su-1488538191-792-640x480

سندھ یونیورسٹی، صوبے کی مظلوم ترین درسگاہ

اگر سندھ کا کوئی طالب علم ملک کی کسی دوسری یونیورسٹی میں موجود سہولیات اور تعلیمی معیار کا موازنہ شروع کردے تو اُسے دُکھوں اور آنسوئوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

گول بلڈنگ سے نکلتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ مثلث دانش میں گزرے گئے لمحات یادگار ہوں گے۔ سرخ شرٹ نہ ہونے کی وجہ سے لال رنگ کی سویٹر زیب تن کی اور ایاز عمرانی کے ہمراہ جامشورو کی جانب چل پڑے۔ اسٹئیرنگ سے کنٹرول ہونے والے آٹو رکشے اور دندناتی ہوئی ٹریکٹر ٹرالیاں سڑک پر تیزی سے رواں دواں تھیں۔ سندھ یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر ہاتھ میں کتاب پکڑے ایک بچے کے مجسمے نے استقبال کیا۔ یونیورسٹی کا یہ پہلا تاثر میرے لئے حوصلہ افزاء تھا تاہم یونیورسٹی کے در و دیوار اگلے ہی قدم میرے لئے کسی خوف ناک حادثے سے کم نہ تھے۔

سندھالوجی ڈیپارٹمنٹ میری پہلی منزل تھی جہاں میں نے سندھ کی تہذیب و تمدن و روایات کی یادوں پر مبنی عجائب گھر کو دیکھنا تھا۔ میوزیم کے مرکزی دروازے پر ایک طویل و قامت اور ہٹے کٹے گارڈ نے ہمارا استقبال کیا۔ گارڈ جسامت میں جتنا مضبوط تھا، میوزیم کی سیکورٹی میں اتنا ہی نازک واقع ہوا۔ میوزیم میں جا بجا گندگی پھیلی ہوئی نظر آئی جس کی وجہ سے مجسمے و دیگر اشیاء گرد سے اٹی ہوئی تھیں۔ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میوزیم کی تخلیق سے اب تک سارے زمانوں کی مٹی و گرد تہہ بہ تہہ اِس پر جمی ہوئی ہو۔ تاہم ایک بات حوصلہ افزاء تھی۔ وہ یہ کہ بھٹو خاندان اور سندھ دھرتی کی علمی و ادبی شخصیات کے لئے مخصوص میوزیم کا حصہ صاف ستھرا تھا۔ فرش اور فوٹو گیلریز اِس قدر صاف تھیں کہ اپنا چہرہ باآسانی دیکھا جاسکتا تھا۔ میوزیم سے نکلتے ہوئے خیال آیا کہ عوام کو بھی سندھ یونیورسٹی کے اِس شعبہ کے بارے میں بتایا جانا چاہئے تاکہ وہ اِس تاریخی دھرتی اور تہذیبوں کے امین صوبے کے بارے میں جانیں۔ مگر جب شعبہ کے ڈائریکٹر صاحب سے اِس بارے میں دریافت کیا گیا تو موصوف بغلیں جھانکنے ہی میں عافیت جاننے لگے۔ اِس ڈیپارٹمنٹ کے پاس سندھ کی تاریخ اور ثقافت کے حوالے سے ریکارڈ تو موجود نہ تھا، بہرحال مجھے ’’سندھ فوک میلے‘‘ کا دعوت نامہ دے کر ڈائریکٹر صاحب نے اپنی جان بخشی کرائی۔

ڈیپارٹمنٹ سے نکلنے کے بعد ہم یونیورسٹی کے دیگرحصوں کو دیکھنے کے لئے چل پڑے۔ یہاں کی طالبات کے سرخ دوپٹے، شرماتی نگاہیں اور سرخی سے پھرپور رخسار جا بجا دیکھنے کو ملے۔ ویلنٹائن ڈے پر یہاں کے طلبہ نے بھی خوب انتظام کر رکھا تھا۔ سرخ شرٹس میں ملبوس یہ طلبہ یونیورسٹی میں تنہا بھنبوروں کی مانند گھوم رہے تھے۔ طالبات بھی سرخ رنگ کا بھرپور استعمال کئے ہوئے تھیں لیکن سرخ گلاب کے فقدان کے باعث ہمجولیوں کے جھرمٹ میں چہچہا رہیں تھیں۔ ایک طویل رقبے پر محیط جامعہ سندھ کو دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا گویا میں یونیورسٹی میں نہیں بلکہ موہن جو داڑو کے کھنڈرات میں موجود ہوں اور یہاں پر موجود طالب علم اِس جامعہ کے طلبہ وطالبات نہیں بلکہ ملک کے طول و ارض سے آئے ہوئے سیاح ہوں۔

ماس کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ ڈیجیٹل دنیا کی نمائندگی کرتے ہوئے دو مجسوموں کو سجائے ہوئے میرے سامنے موجود تھا۔ اِس ڈیپارٹمنٹ کے کوریڈور میں جا بجا بکھرے کاغذ کے ٹکرے اور مشروبات کے ڈبے دیکھ کر کسی اخبار کے پرنٹنگ پریس کی یاد آگئی۔ یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاک کے مرجھائے ہوئے پودے، ٹوٹے ہوئے راستے، گرد کے اٹھتے بادل بتا رہے تھے کہ مہنیوں سے یہاں کسی مالی کی نگاہیں نہیں پڑیں۔ یونیورسٹی کے اندر موجود تدریسی کمرے اور اُن کی کرسیوں پر جا بجا گرد جمی ہوئی تھی تاہم کچھ حصے صاف نظر آرہے تھے، شاید غلطی سے کوئی طالب علم کرسی پر بیٹھ گیا ہو اور یونیورسٹی کے مالی و خاکروب کا کام اِس کے کپڑوں نے سرانجام دیا ہو۔

 

ایاز عمرانی کی لال شرٹ ابھی تک گرد سے بچی ہوئی تھی تاہم اُس پر گرد لگنا انتہائی ضروری ہوگیا تھا۔ فیصلہ کیا گیا کہ اب یونیورسٹی کے کسی پروفیسر کے کمرے کو رونق بخشی جائے۔ پروفیسر کا نام اور اُن کا شعبہ بوجودہ یہاں پر بیان نہیں کیا جارہا۔ ہم جوں ہی پروفیسر صاحب کے کمرے پر پہنچے تو وہاں پر ہمیں اُن کی میز اور کرسیاں صاف ملیں مگر اُن کے کمرے کے بالکل سامنے کوریڈور پر جا بجا پان کی پچکاریوں کے نشانات ملے۔ پروفیسر صاحب کی کرسی زمانہ قدیم کی داستان بیان کر رہی تھی، اُن کے بار بار کھڑے ہونے سے کرسی سے یوں آوازیں بلند ہو رہیں تھیں گویا پاکستان اسٹیل مل میں لوہے پر مشینوں کی ضربیں لگ رہی ہوں۔ہمیں جو کرسیاں مہیا کی گئیں وہ کسی کلاس روم کی تھیں، جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی کرسیوں پر سانس روکے بیٹھے رہے تاکہ ہماری حرکات کی وجہ سے سندھ یونیورسٹی کا قیمتی، قدیم اور نادر اثاثہ داغ مفارقت نہ دے جائے۔

سندھ یونیورسٹی 1947ء میں قائم ہوئی تاہم 1972ء تک اِس یونیورسٹی کو مختلف مراحل سے گزرنا پڑا۔ اِس وقت یونیورسٹی 43 کے قریب پروگرامز میں ڈگری دے رہی ہے جبکہ 4 لاء کالجز سمیت 43 پوسٹ گریجویٹ کالجز اِس کے ساتھ منسلک ہیں۔ اِن ملحقہ کالجز میں 16 نجی کالجز بھی شامل ہیں۔ 2002ء سے یونیورسٹی میں شام کی کلاسز شروع ہوئی ہیں۔ حیدرآباد سے 15 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے کنارے اِس یونیورسٹی کے قیام کے بعد شاید ابتداء ہی میں اِس درسگاہ میں کوئی ترقیاتی کام ہوئے مگر اُس کے بعد اِس یونیورسٹی کی جانب ارباب اختیار کی نگاہیں کبھی نہ پڑ سکیں۔ 20 ہزار سے زائد طلبہ وطالبات کے لئے محض پچاس بسیں ہیں جو کہ سرکار کی جانب سے مہیا کی گئی ہیں۔ اِسی طرح طالبات کے لئے دو ہاسٹلز اور طلبہ کے لئے محض دس ہاسٹل موجود ہیں جن میں تادم تحریر کسی بھی طالب علم کو الاٹمنٹ نہ ہوسکی۔

مجھے میزبانوں کی جانب سے طلبہ و طالبات کی بسوں کے لئے مختص جگہ پر لے جایا گیا جہاں پر قریبی شہروں سے حصول تعلیم کے لئے آئے ہوئے طلبہ وطالبات سینکڑوں کی تعداد میں نجی بسوں کے انتظار میں کھڑے تھے۔ نجی بسیں بھی راجہ داہر کے دور کی داستان سنا رہی تھیں۔ اِتنی زیادہ کھٹارا بسیں کہ اُن کی آوازوں سے سارا جامشورو گونج رہا تھا۔ اِن بسوں کی آوازیں اربابِ اختیار کو چیخ چیخ کر سندھ یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات کی داستان الم سنا رہی تھیں۔ مجھے اِن طلبہ و طالبات کی حالت پر ترس آرہا تھا مگر ساتھ ہی ارباب اختیار کی بے حسی پر دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔

سندھ یونیورسٹی کا سینکڑوں ایکڑ پر پھیلا ہوا رقبہ چترال کے گنجے پہاڑوں اور تھر کے ریگستانوں کی نمائندگی کر رہا تھا۔ گھاس تھی نہ درخت، پھول تھے نہ فوارے، یہاں تک کہ طلبہ و طالبات کے لئے بسوں کے انتظار کے لئے بھی کوئی خاص انتظام موجود نہیں تھا۔ جامشورو میں مزید دو جامعات لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور مہران یونیورسٹی بھی اِسی جامعہ کے آنگن میں قائم ہیں اور سندھ یونیورسٹی ہی کے رقبے پر قائم ہیں۔ سندھ میں اقتدار پر براجمان حکمران احساس محرومی کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ اگر سندھ کا کوئی طالب علم ملک کی کسی دوسری یونیورسٹی میں موجود سہولیات اور تعلیمی معیار کا موازنہ شروع کردے تو اُسے دُکھوں اور آنسوئوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ سندھ یونیورسٹی میں قائم مین کیفٹریا جی ٹی روڈ کے ٹرک ہوٹلز سے بھی بُرا نمونہ پیش کررہا تھا۔

اب مجھے ایک بار پھر یونیورسٹی کے مین کوریڈور جانے کا موقع ملا جہاں پر سگریٹ کے ٹکرے، خالی پیکٹ، کھانے پینے کی اشیاء کے لفافے، خواتین کے استعمال کی مصنوعات کے خالی پیکٹ، پان کی پچکاریاں اور کاغذوں کے ٹکرے جا بجا پھیلے ہوئے تھے۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ سالوں سے کسی خاکروب نے اِس کوریڈور کے درشن نہیں کئے۔ لیکن اِس گندگی کے برعکس اِس یونیورسٹی میں کسی بھی سیاسی جماعت کی چاکنگ نظر آئی نہ ہی کوئی پوسٹر، جو کہ ایک حوصلہ افزاء بات تھی۔

 

مثلث دانش کہلایا جانے والا شہر دانش کے بجائے کچرا منڈی اور شہر پر آسیب بنا ہوا تھا۔ سندھ دھرتی پر اقتدار کے مزے لوٹنے والے حکمرانوں کو ایک نظر اِس جانب بھی کرنا ہوگی۔ طلبہ و طالبات کو عزت کے ساتھ کامیابی کا سفر طے کرنے کے لئے، کچرا منڈی کو علم و دانش کی مثلث بنانے کے لئے اور قوم کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لئے، شہر پرآسیب میں میرے لئے رکنا ناممکن ہو رہا تھا۔ اِسی لئے میں نے ایاز کو ساتھ لیا اپنی سرخ سویٹر اتاری اور دریائے سندھ کے کنارے بیٹھ کر سندھ یونیورسٹی کے مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کردیا، کتنی دیر وہاں بیٹھا رہا یاد نہیں، اچانک ڈاکٹر اعتزاز کی بات کانوں میں پڑی، چلیں بھائی! سندھی بریانی کھانے چلتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی کا آسیب میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور ابھی تک میرے ہمراہ ہی ہے لیکن حکمران اِس آسیب سے کیوں کر محفوظ ہیں؟ شاید سورہ والناس کا ورد کرکے سندھ کے اِس آسیب سے محفوظ رہ کر پرسکون نیند سو رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*