791752-w-1492235761-981-640x480

سندھ کی نایاب ہالیجی جھیل

اس میں جہاں زندگی اتنی تیز ہوگئی ہے کہ کسی کو کسی کا کچھ خیال ہی نہیں، وہاں اِس قدر پُرسکون ماحول کی موجودگی میں انسان وہ سب کچھ بھول جاتا ہے جو وہ چھوڑ کر آیا ہے۔ فوٹو: نعمان لودھی

تاحدِ نگاہ بہتا ہوا پانی، لہراتی سرسراتی تازہ ہوائیں، پیپل کے درختوں کی راحت بھری چھاؤں اور خوبصورت چہچہاتے پرندے یہاں کے ماحول میں ایسی دلکشی پیدا کر رہے تھے کہ دیکھنے والے کے قلب کا تصور ناقابل بیان ہوتا ہے۔

اِس بار ہم نے سفر کے لیے ہالیجی جھیل کا انتخاب کیا۔ ہالیجی جھیل کراچی سے ٹھٹھہ جانیوالی شاہراہ پر تقریباً 85 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب یہ جھیل اپنی نوعیت کی انمول جھیل ہے۔ ہم صبح 8 بجے ہمراہ ریاض بھائی، عبدالستار (کشف)، نعمان رحمت دین اور مظہر شیخ کراچی سے جھیل جانے کے لئے نکل پڑے۔

شاہراہوں پر ترقیاتی کام کی وجہ سے سفر 3 گھنٹے تک پھیل گیا۔ جھیل پر پہنچتے ہی سکون و راحت کے ساتھ ساتھ خوبصورت مناظر نے جیسے ہمیں اپنا بنالیا ہو۔

اِس نفسا نفسی کے دور میں جہاں زندگی اتنی تیز ہوگئی ہے کہ کسی کو کسی کا کچھ خیال ہی نہیں، وہاں اِس قدر پُرسکون ماحول کی موجودگی میں انسان وہ سب کچھ بھول جاتا ہے جو وہ چھوڑ کر آیا ہے۔

معلومات کے مطابق اِس جھیل کی لمبائی 685 مربع میل بتائی جاتی ہے اور اِس کی گہرائی اوسط 17 فٹ تک ہے۔ اِس جھیل میں کنجھر جھیل سے بھی پانی چھوڑا جاتا تھا، لیکن اب یہ بند کردیا گیا ہے۔

70ء کی دہائی میں اِس جھیل سے کئی برسوں تک کراچی کو پانی بھی فراہم کیا جاتا تھا۔

اِس جھیل کی خاص بات یہ تھی کہ یہ جھیل ہجرت کرنے والے پرندوں کی پسندیدہ آماجگاہ تھی۔ 1972ء میں اِس جھیل کو سینکچوری (جنگلی حیات کی مکمل پناہ گاہ) کا درجہ دیا گیا تھا۔

70ء سے 80ء کی دہائی میں ہالیجی جھیل سندھ وائلڈ لائف بورڈ کے انتظام میں ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب اِس جھیل کا جوبن اپنے عروج پر تھا اور یہاں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی تعداد لاکھوں میں ہوا کرتی تھی۔ اُس وقت بین الااقوامی ادارے کی ٹیم نے یہاں سروے کیا تھا اور سروے کے دوران انہوں نے 255 کے لگ بھگ پرندوں کی اقسام یہاں سے دریافت کی تھی۔

سروے کے بعد اِس جھیل کو پرندوں کی جنت کا لقب بھی دیا گیا تھا۔ اِسی طرح اِس جھیل میں دلدلی مگرمچھوں کی بھی افزائش ہوا کرتی تھی۔ 2004ء میں مگرمچھوں کی تعداد 100 کے قریب تھی لیکن اب سروے کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہاں صرف دو مگرمچھ اِس جھیل میں بچے ہیں جو وائلڈ لائف والوں نے اِس جھیل سے منسوب مگرمچھوں کے قصے کو یادداشت کے طور پر رکھا ہوا ہے۔

ایک وقت تھا کہ سیاح اِس جھیل کے نظارے بڑے محتاط انداز میں کیا کرتے تھے کہ کہیں سے مگرمچھ نہ نکل آئے لیکن اب لوگ اتنے اطمینان سے جھیل میں مچھلیوں کا شکار کرتے ہیں کہ جیسے یہاں مگرمچھ کبھی تھے ہی نہیں۔ پوری جھیل گھومنے پر ہمیں صرف دو مگرمچھ نظر آئے جو پنجرے میں پابندِ سلاسل تھے۔

ایک جگہ کچھ ہرن اور برائے نام کچھ پرندے بھی قید تھے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ہالیجی جھیل تباہ حالی کا شکار ہے۔ وسائل کی کمی اور حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے جھیل اپنی رونقیں اور شناخت کھو بیٹھی ہے۔ کینجھر جھیل سے پانی کی بندش کے بعد ہالیجی جھیل میں پانی کی سطح دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے جس کے باعث پانی گندہ ہو رہا ہے، اور پانی کے گندہ ہونے کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے پرندے اب یہاں کا رخ کم ہی کیا کرتے ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ گندے پانی کی وجہ سے مچھروں کی بہتات جھیل سے سیاحوں کو بھاگنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اگر حکومت توجہ دے تو اِس جھیل کو دوبارہ اپنی رونقیں اور شناخت لوٹائی جاسکتی ہے۔

جھیل پر موجود مختلف سرکاری محکموں کے دفاتر تو یہ بتا رہے تھے کہ جیسے سرکار یہاں موجود ہے، لیکن اُن دفاتر میں موجود افسران کیا کام کرتے ہیں یہ کسی کو نہیں معلوم۔ جب ہم نے معلوم کرنے کی کوشش کی تو علم ہوا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے جھیل اِس حال کو پہنچ چکی ہے۔

جھیل کے کنارے پر موجود صفائی کی غرض سے موجود کشتیاں جیسے منہ چڑا کر حکومتی کارکردگی کی ساری روئیداد سنا رہی تھیں۔ اتنے بڑے رقبے پر محیط اِس جھیل کی صفائی کے لئے صرف تین کشتیاں کنارے پر موجود تھیں۔

سیاح یہاں آ تو رہے تھے لیکن چند گنے چنے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں مچھلی کے شکار کا کچھ شوق ہو۔ اگر جھیل کے معاملات اسی طرح چلتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب یہ کہا جائے گا کہ یہاں ایک نایاب ’ہالیجی‘ جھیل ہوا کرتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*