789579-manwomen-1492152649-666-640x480

خطرہ بھی مرد سے اور محافظ بھی مرد!

مانا کہ مردوں کے ساتھ بھی زیادتیاں ہوتی ہیں، انہیں ہراساں بھی کیا جاتا ہے لیکن یہ اِس کا عشر عشیر بھی نہیں جس ہراسیت اور عدم تحفظ کا سامنا کسی لڑکی یا خاتون کو کرنا پڑتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ عورت کیلئے اِس معاشرے میں مرد کے سہارے کے بغیر باعزت طور پر زندگی گزارنا دشوار ہے۔ باپ، بھائی اور شوہر اُس کے محافظ ہوتے ہیں، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ بھائی، باپ اور شوہر آپ کے ہوں یا میرے، اگر محافظ ہوتے بھی ہیں تو صرف اپنی ہی بہن، بیٹی اور بیوی کے۔ دوسروں کی بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کے لئے تو وہ کچھ ایسے بن جاتے ہیں کہ خود اُن سے حفاظت درکار ہوتی ہے۔

کوئی شک نہیں کہ آج بھی خواتین اکیلے گھر سے نکلنے کے بجائے کسی مرد کے ساتھ جانے میں خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتی ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ باہر مردوں سے محفوظ رہنے کے لیے مرد کا ہی سہارا لیتی ہے۔ کوئی نوجوان لڑکی اپنے آٹھ، نو سالہ بھائی کو کسی جانور یا آسمانی مخلوق سے حفاظت کے لئے نہیں بلکہ اِسی معاشرے کے حضرات سے ہی خود کو محفوظ رہنے کے لئے ساتھ لیکر باہر نکلتی ہے۔

جناب اِس معاشرہ میں 80 فیصد مرد برتری کے ہی قائل ہیں، جو عورت کو جینے کا حق صرف اُسی صورت دیتے ہیں جب تک وہ اُن کے اشاروں پر ناچتی رہے۔ جہاں اُس نے خود سوچنا شروع کیا، سونے پر سہاگہ بولنے بھی لگی تو وہ فساد کی جڑ بن جاتی ہے۔ دراصل فساد کی جڑ عورت نہیں، معاشرہ کا عورت کے بارے میں مائنڈ سیٹ ہے۔

مردوں کی اکثریت کو آج کل یہ شکوہ رہتا ہے کہ جسے دیکھو، عورتوں کے حقوق اور مردوں کی زیادتیوں کی بات کرتا نظر آتا ہے۔ حقوقِ مرداں کی جانب کسی کی نظر نہیں جاتی۔ کیا مردوں کے کوئی حقوق نہیں؟ ایسا اِس لئے ہوتا ہے کہ زیادتیاں زیادہ تر خواتین کے ساتھ ہی ہوتی ہیں۔ ذرا یہ بتائیے کہ مردوں کے ایسے کون سے بنیادی حقوق ہیں جو عورتیں غصب کرتی ہیں۔ عمومی طور پر خواتین کی جانب سے مردوں کو تمام حقوق (سود سمیت) ملتے ہیں، اور اگر اُنہیں نہیں ملتے تو وہ چھین کر لے لیتے ہیں، عورت کو توڑ کر لے لیتے ہیں۔

چلیں مردوں کے اِن حقوق پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جن پر ہمیں اعتراض ہے۔ کہیں کوئی لڑکی نظر آجائے، اُسے کم از کم آنکھوں سے مکمل اسکین کرنا ہر مرد کا حق ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کے لیے مخصوص حصے میں گھس جانا اُن کا پیدائشی حق ہے۔ اِس غلطی پر شرمسار ہونے کے بجائے کہتے ہیں کہ آخر عورتوں اور لڑکیوں کو باہر نکلنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ دفتر میں کام کرتے ہوئے، خریداری کرتے ہوئے، رکشے کا کرایہ دیتے ہوئے جان بوجھ کر خاتون کے ہاتھ سے ہاتھ ٹکرا دینا اُن کا حق ہے۔

مانا کہ مردوں کے ساتھ بھی زیادتیاں ہوتی ہیں، انہیں ہراساں بھی کیا جاتا ہے لیکن یہ اِس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتا جس ہراسیت اور عدم تحفظ کا سامنا اِس معاشرے میں کسی لڑکی یا خاتون کو کرنا پڑتا ہے۔

کیا کبھی راہ چلتے دیکھا ہے کہ لڑکیوں کا کوئی گروہ کسی اکیلے لڑکے کو چھیڑ رہا ہو؟ فقرے کس رہا ہو؟ کبھی کسی لڑکی کو لڑکے کے جسم پر دانستہ ہاتھ مارتے دیکھا ہے؟ رنڈوے یا طلاق یافتہ مرد کو منحوس کے لقب سے پکارتے سنا ہے؟ کبھی کسی دفتر میں خواتین کولیگز یا باس کو مرد ساتھیوں کے انتہائی قریب ہونے کی کوشش کرتے دیکھا ہے؟ اور کیا اُن مردوں کو ایسے محتاط ہو کر، بچ بچ کر چلتے، کام کرتے دیکھا ہے جیسا کہ ورکنگ ویمنز کرتی ہیں؟ کیا کبھی لفٹ میں اکیلے لڑکے کو اکیلی خاتون کے ساتھ جانے سے خوف محسوس ہوتا ہے؟ کبھی کسی بس اسٹاپ پر رات آٹھ بجے کے بعد اکیلے کھڑے لڑکے کو خواتین راہ گیروں کی جانب سے ساتھ چلنے کی آفر دیتے دیکھا ہے؟ کتنی خواتین کو ڈھٹائی سے مردوں کوگھورتے دیکھا ہے؟ غیرت کے نام پر بھی اکثریت عورتوں کا ہی قتل کیا جاتا ہے۔ کسی مرد کوعورت کی غیرت کیوں نہیں کہا جاتا؟

مارکیٹ میں، پبلک ٹرانسپورٹ میں، آفس میں، کسی تقریب میں، یا راہ چلتے یہ مرد ہی ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی کے بھائی باپ شوہر یا بیٹے بھی ہوتے ہیں، جنہیں کسی لڑکی یا عورت (چاہے وہ برقع میں لپٹی ہو یا بغیر دوپٹے کے ہو، چاہے وہ کسی بھی عمر، رنگ کی ہو) کی موجودگی میں نظر، زبان اور بعض اوقات ہاتھ تک سنبھالے نہیں سنبھلتے۔

اُن مردوں کے نزدیک تو بس یہ ایک چھوٹی سی شرارت ہوتی ہے، بے ضرر سی شرارت۔ چاہے صنفِ نازک کو یہ کتنی ہی ناگوار گزرے۔ یہاں تک کہ وہ مرد رشتے داروں کی شرارتوں کا نشانہ بھی بنتی ہیں، اور کچھ بھی نہیں کہہ پاتیں سوائے دانت پیسنے کے، کیونکہ اِن کے آواز اٹھانے پر بھی انہیں ہی موردِ الزام ٹھہرایا جائے گا کہ لڑکی نے کوئی اشارہ دیا ہوگا تبھی تو آدمی کی ہمت ہوئی۔

اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہی ہے کہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے اور مرد ہمارے محافظ ہیں۔ میرا سوال تو صرف یہ ہے کہ ہمیں مرد محافظوں کی ضرورت ہی کیوں پڑتی ہے؟ حضرات اگر خواتین کو بھی زیادہ کچھ نہیں، صرف انسان ہی سمجھیں، اپنی ماں، بہن، بیٹی کے ساتھ ساتھ ہر عورت کو عزت دیں تو حوا کی بیٹیوں کو ابنِ آدم کی موجودگی سے تحفظ کا احساس ہوگا، نہ کہ خوف کا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*